60

کرتار پور راہداری کے سلسلے میں پاک بھارت مذاکرات, خوشخبری کی نوید آگئی

لاہور( ویب ڈیسک ) کرتار پور راہداری کے سلسلے میں پاکستان اور ہندوستان کے مابین مذاکرات ہندوستانی سرحدی علاقے اٹاری میں اختتام پزیر ہوگئے ہیں۔ پاکستانی وفد ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی سربراہی میں واپس واہگہ بارڈر پہنچ گیاہے۔ڈاکٹر فیصل نے میڈیا کوبتایاکہ مذاکرات کا دوسرا دور دو اپریل کو واہگہ بارڈر لاہور میں ہوگا۔واہگہ بارڈ ر پرمیڈیا بریفنگ میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ دونوں ملکوں میں تعمیری اور مثبت مذاکرات ہوئے ۔ بعض معاملات پر اختلافات ہیں تاہم تفصیلات ابھی نہیں بتا سکتے۔ مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیے کا جاری ہونا اہم کامیابی ہے۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے وفد کی قیادت مسٹر ایس ایل داس نے کی۔ وفود میں شامل ماہرین کے مابین بھی اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی۔ کچھ چیزوں پر اختلاف ہے ان کی تفصیل ابھی نہیں بتائی جا سکتی۔ تکنیکی ماہرین کی ملاقات 19 مارچ کو کرتارپور پر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کرتارپور بارڈر پر انڈیا نے بھی کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور دو اپریل کو واہگہ بارڈر لاہور پاکستان میں ہوگا۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کی سربراہی میں 18 رکنی پاکستانی وفد کرتار پور راہداری منصوبے کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے واہگہ بارڈر کے ذریعے ہندوستان پہنچا۔پاکستان اور ہندوستان کے وفود کے درمیان اٹاری میں کرتار پور راہداری کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔پاکستان کی جانب سے کرتار پور راہداری سے متعلق مسودہ بھارت کو پیش کیا گیا تھا جس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہوئے۔اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے بھارت روانہ ہونے سے قبل واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم مثبت پیغام لے کر بھارت جا رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی قدم بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا جب کہ آج کرتار پور راہداری سے متعلق مذاکرات کے لیے بھارت جا رہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کرتار پور راہداری کھولنے سے سکھ برادری کو سہولت اور دونوں ملکوں کے درمیان امن بھی قائم ہو گا۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہماری سوچ ہے ایک شجر ایسا لگایا جائے جس سے ہمسائے کے گھر بھی اس کا سایہ جائے۔ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرتار پور راہداری منصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا تھا اور منصوبہ نومبر 2019 میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں