71

سپریم کورٹ‌نے جھوٹی گواہی دینے پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے جھوٹی گواہی دینے سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کردیا جسمیں عدلیہ کو جھوٹی گواہی پر کسی قسم کی لچک نہ دکھانے کا کہا گیا ہے۔ بدھ روز کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے 31 صفحوں پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جسمیں سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی پر جھوٹے گواہ کیخلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سچ انصاف کی بنیاد ہے اور انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، سچ پر سمجھوتہ دراصل معاشرے کے مستقبل پر سمجھوتہ ہے۔فیصلے کے مطابق ہمارے عدالتی نظام کو سچ سے انحراف کرنے کا بہت نقصان ہوا، اس سنگین غلطی کو درست کرنے کا وقت آگیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جو ایک جگہ جھوٹا ہوگا وہ ہر جگہ جھوٹا ہوگا، گواہی کے کسی حصے میں جھوٹ پر ساری گواہی جھوٹی تصور ہو گی۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں اور جھوٹی گواہی دینے پر کارروائی کی جائے۔سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو فیصلے کی کاپی تمام ہائیکورٹس کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ ہائیکورٹس کو فیصلے کی نقول ماتحت عدلیہ کے ججز کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، ایمان کا تقاضا ہے کہ سچی گواہی دی جانی چاہیے، سچی گواہی کی عدم موجودگی میں انصاف ممکن نہیں، جھوٹے کی حمایت سے ناانصافی اور انصاف کے خلاف جارحیت کو فروغ ملتا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام بھی گواہی میں حقائق چھپانے سے روکتا ہے، جھوٹی گواہی انصاف اور مساوات کو نقصان پہنچاتی ہے اور جھوٹی گواہی عوام کے تحفظ اور سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں