11

غربت مٹانا جہاد ہے، عمران خان نے غربت ختم کرنے کیلئے نئی وزارت قائم کرنے کا اعلان کر دیا،تمام پاکستانیوں کیلئے عظیم خوشخبری

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے غربت کے خاتمہ کیلئے نئی وزارت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ غربت ختم کرنا بھی ایک جہاد ہے،نئی وزارت رابطے کا کام کریگی ،ہم ملک سے غربت ختم کرینگے ، ہم پسماندہ اور کمزور لوگوں پر خرچ کرتے ہیں ،(اسی) 80 ارب روپے کا اضافہ کررہے ہیں اور 2021 تک 120 ارب روپے تک بڑھا دیں گے،57 لاکھ خواتین کے سیونگ اکاؤنٹس بنائیں گے، اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے کام کروایا جاتا ہے ،تحفظ پروگرام کے تحت کارروائی کی جائیگی، تحفظ پروگرام کے تحت ہماری حکومت لوگوں کو لیگل ایڈ دیگی، تعلیم کیلئے گرانٹ دیں گے ، 500 ڈیجیٹل حب بنا رہے ہیں،جو مختلف دیہاتوں میں کام کریں گے،دس برسوں میں جمہوریت نے ہم نے بدلہ لیا ہے ، ہمارا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب ہے ،پرانے قرضوں پر دن کا سود 600 کروڑ روپے دے رہے ہیں۔ بدھ کو یہاں غربت مٹاؤ پروگرام ‘احساس’ کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس پروگرام کی منصوبہ بندی کرنے والی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے اس ملک میں غربت کو کم کرنے کیلئے جہاد شروع کررکھا ہے اور انسان کا دنیا میں آنے کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ جن کو اللہ نے زیادہ دیا وہ ان لوگوں پر کتنا خرچ کرتے ہیں جنہیں کو زیادہ نہیں دیا۔وزیراعظم نے کہاکہ کسی معاشرے سے غربت کم کرنے کے لیے کوئی ایک فارمولا نہیں ہے، غربت کم کرنے کے لیے بہت چیزیں کرنی پڑتی ہیں اور اقدامات کرنے پڑتے ہیں جس کے لیے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے پروگرام پر عمل درآمد ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم پسماندہ اور کمزور لوگوں پر خرچ کرتے ہیں اس میں 80 ارب روپے کا اضافہ کررہے ہیں اور 2021 تک 120 ارب روپے تک بڑھا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک نئی وزارت بنارہے ہیں جس کا کام سوشل پروٹیکشن اینڈ پورٹی ایلویشن ہوگا، یہ وزارت پاکستان میں اس پروگرام پر عمل درآمد کے حوالے سے رابطے کا کردار ادا کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ غریبوں کی مدد کرنے کیلئے جتنے بھی ادارے کام کررہے ہیں وہ ایک جگہ سے منسلک کریں گے۔انہوں نے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، زکوا? اور بیت المال اور پاکستان غربت مٹاؤ پروگرام سمیت دیگر ادارے علیحدہ علیحدہ کام کررہے ہیں اور ان کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہے، ہم ایک وزارت کے نیچے کررہے ہیں جس کیلئے ڈیٹا بیس بنارہے ہیں اور یہ ڈیٹا بیس دسمبر تک مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا بیس مکمل ہوتے ہی ہمیں پتہ چلے گا لوگوں کی انکم کتنی ہے، ابھی ہمیں پوری طرح نہیں پتہ تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ تقریباً 25 فیصد سے 40 فیصد تک افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں لیکن اس ڈیٹا بیس سے مکمل پتہ چلے اور ایک ہی جگہ سے انتظام کریں گے اور پورے ملک میں غربت کی کمی کے لیے مہم چلائیں گے۔غربت میں کمی کے حوالے سے منصوبہ بندی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کفالت کا مطلب ہے کہ سروے کرکے لوگوں کی مالی مدد کرنا ہے، اس وقت پرانی سروے سے مدد کررہے ہیں اور نئی سروے سے معلوم کریں گے کس کا کیا حال ہے اور دسمبر تک نئی سروے بھی آجائیگی۔ انہوں نے کہاکہ 57 لاکھ خواتین کے سیونگ اکاؤنٹس بنائیں گے اور ان کو موبائل دیں گے جس کے ذریعے بینک اکاؤنٹ ہوں گے، وہ موبائل فون سے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کریں گی اس سے شفاف طریقہ ہوگا، نقد منتقلی کو 5 ہزار سے ساڑھے 5 ہزار تک بڑھا رہے ہیں۔کفالت پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 500 دیجیٹل حب بنارہے ہیں، یہ تحصیلوں میں ہوں گے اور یہ غریب لوگوں کیلئے مواقع پیداکریں گے اور لوگوں کو یہاں زندگی بہتر کرنے کیلئے مشورے بھی دئیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ تحفظ پروگرام کے تحت ہماری حکومت لوگوں کو لیگل ایڈ دے گی، تعلیم کیلئے گرانٹ دیں گے اور جن کے پاس انصاف کارڈ نہیں ہیں وہ تحفظ پروگرام سے رابطہ کریں گے تو انہیں کارڈ بنا کر دیں گے۔انہوں نے کہاکہ گاؤ ں کی خواتین کی مدد کرنے کیلئے بکریاں دیں گے تاکہ ان کو اور بچوں کو دودھ ملے اور دیہات میں خواتین کو دیسی مرغیاں دینی ہیں، یہ ساری دنیا میں آزمایا ہوا عمل ہے، مرغیاں اور بکریاں دو ایسی چیزیں ہیں جن سے دیہات میں فرق پڑیگا۔غربت کے خاتمے کیلئے منصوبہ بندی سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بہت بڑا فرق ڈالتی ہیں، خاص کر جب ایک ملک کے پاس پیسہ نہیں ہو اور آج ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دس برسوں میں جمہوریت نے ہم سے جو بدلہ لیا ہے وہ انہوں نے ہمارا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب ہے اور پرانے قرضوں پر دن کا سود دے رہے ہیں وہ 600 کروڑ روپے ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ شروع کردیا ہے، مجھے لگتا ہے ہمارے ملک میں اللہ کی برکت آئے گی کیونکہ اگلے تین چار ہفتے میں گیس اور تیل کیلئے جو ہماری کشتی کھڑی ہوئی ہے ان شااللہ اللہ کرم کرے گا اور سب کو دعا کرنی چاہیے۔وزیر اعظم نے کہاکہ مزدوروں اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دینگے تاکہ وہ اپنا گھر بنا سکیں،غربت مٹاؤ پروگرام میں ہم مختلف این جی اوز سے پارٹنر شپ کریں گے، ہم کمزور، پسماندہ لوگوں کی امداد میں 80 ارب کا اضافہ کر رہے ہیں ، اسٹریٹ چلڈرن کیلئے ہم پبلک پرائیوٹ ، پارٹنرشپ کرینگے، اس تحفظ پروگرام کے تحت ہم خواجہ سراؤں کی بھی ہم مدد کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگلے 4 سال میں بیت المال10لاکھ بچیوں کی مدد کریگا۔ انہوں نے کہاکہ اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے کام کروایا جاتا ہے ،تحفظ پروگرام کے تحت کارروائی کی جائیگی انہوں نے کہاکہ ہم دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں لیکن خیرات دینے والے ممالک میں ہم سب سے آگے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ آج شوکت خانم کا خسارہ 6 ارب روپے سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم بھی وہی فیصلے کر رہے ہیں تاکہ آگے جاکر ملک معاشی طور پر مستحکم ہوں۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین نے 30سال کے اندر 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا،چین نے 30 سال پہلے جو فیصلے کیے اس کی وجہ سے آج معاشی طاقت ہے،آج ہم بھی وہی فیصلے کر رہے ہیں تاکہ آگے جاکر ملک معاشی طور پر مستحکم ہو،جب اللہ کیلئے کام کرتے ہیں تو صرف کوشش کریں، مدد اللہ کرتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 43 فیصد بچے خوراک کی کمی کاشکار ہیں،ریاست مدینہ کا اہم اصول رحم ہوتا تھا،انسانیت کی مدد کرنا اللہ کا راستہ ہے،مسلمانوں کے لیے مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ہے،پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پربنا۔وزیراعظم نے کہا کہ جو مزدور بیرون ملک جائینگے انھیں ایک سال نہیں بلکہ 3 سال کے کنٹریکٹ پر بھیجیں گے، بیرون ملک کام کرنیوالے محنت کش کیلئے اسپیشل ویلفیئر ٹکٹ دینگے تاکہ وہ اپنے گھر والوں سے آکر مل سکیں،بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کشوں کے تعاون کیلئے ویلفیئر اتاشی تعینات کیے جائینگے۔انہوں نے کہاکہ محنت کش لوگ جو بیرون ملک کام کرنے جاتے ہیں ان کو سہولیات دینگے ، بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کش لوگوں کیلئے سہولتیں فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ یوٹیلیٹی اسٹور ز کے اندر بیج رکھیں گے تاکہ لوگ ان کو خرید کر گھر میں پودے لگا سکیں ،دیہی خواتین کی مدد کیلئے بکریاں ، دیسی مرغیاں دی جائینگی،بچوں کو کیمیکل ملا دودھ مل رہا ہے جو قوم کے بچوں کیساتھ بہت بڑی زیادتی ہے وزیر اعظم نے کہاکہ 75 فیصد کھلا دودھ جو دستیاب ہے وہ پینے کے قابل نہیں۔انہوں نے کہاکہ جن کو انصاف کارڈ نہیں ملے گا ان کو تحفظ پروگرام کے تحت صحت کی سہولیات دی جائیں گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دیہات میں غربت مٹانے کے لیے بہترین زرعی پالیسی بنائی ہے،کوشش ہے چھوٹے کسانوں کی مدد کی جائے، مزدوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کرائیں گے کبونکہچھوٹا کسان قرضوں کے بوجھ میں دب جاتا ہے،آگے نہیں بڑھ پاتا۔وزیراعظم نے کہا کہ خواتین کو اگر آئی ٹی کی مہارتیں دی جائیں تو وہ بھی گھر بیٹھ کر کام کر سکیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں