84

امریکہ بھی پاکستان کے سامنے بےبس، بھارت کیخلاف پاکستان کو روکنے سے قاصر، آخر کار سپر پاور امریکہ نے اعتراف کرتے ہوئے اعلان کر دیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور امریکہ کے مابین ایف سولہ کی خریداری کے معاہدے میں اسے انڈیا کے خلاف استمال کرنے کی اجازت شامل تھی۔امریکہ نےپاکستان کو ایف سولہ جیٹس کی فراہمی کرتے ہوئے نہ صرف طیاروں کی ڈیٹرنس اہمیت کا اعتراف کیا تھا بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ اس سے مستقبل میں پاکستان اورانڈیا کے درمیان جوہری لڑائی کو روکا جا سکتا ہے۔میڈیا اطلاعات کیمطابق ان دونوں نقاط کو اسلام آباد میں رہنے والے امریکی سفارت کار اینی پیٹرسن نے 24 اپریل 2018ء کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے اپنے ایک خصوصی پیغام میں بھی شامل کیا

تھا۔جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ جدید ایف سولہ پروگرام پاکستان کو دینا اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے مستقبل میں اگر پاکستان اور انڈیا کے مابین لڑائی ہوئی تو اس سے پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کی بجائے روایتی ہتھیار استعمال کرنے کا موقع بھی ملے گا۔امریکی سفارتکار اینی پیٹرسن نے یہ بات واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کہی تھی جو کہ 20 پیراگراف پر مشتمل تھی۔یہ بات چیت وکی لیکس کے ذریعے سے سامنے آئی تھیں۔میڈیا رپورٹس پر مزید بتایا گیا ہے کہ 18 مارچ 2009ء کو انہوں نے واشنگٹن کو ایک طویل پیغام ارسال کیا تھا جس میں پاکستان کی جانب سے مزید ایف 16 طیاروں کی درخواست اور فروخت پر انڈیا کے اعتراضات شامل تھے۔تاہم اس وقت انھوں نے بھارت کے اس اعتراض کا جواب کچھ اسطرح سے دیا تھا کہ اگر ہمارا مقصد یہ ہے کہ فوج کو حکمت عملی تبدیل کرنے اور انڈین سرحد پر فورسز کی ازسرنو تعیناتی پر مجبور کریں تو اس ڈیل کو منسوخ کرنا ہمارے لئے مفید نہیں ہوگا۔اس پیغام میں اس بات کی بھی وضاحت کی کہ انہیں کیوں یقین ہے کہ ایف 16 طیارے جنوبی ایشیا میں جوہری تنازع کے امکان کو معدوم کر سکتے ہیں۔سابق امریکی سفیر نے واشنگٹن کے پالیسی بنانے والوں کو یہ بھی یاد کروایا کہ 2008 میں انڈین جدید کثیرالمقاصد لڑاکا طیاروں کے پاکستان پر پہلے ہی برتری حاصل کر چکا ہے جہاں نئی دہلی کے پاس 736 طیارے ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے پاس صرف 370 طیارے ہیں۔بھارتی فضائیہ پہلے سے ہی نظر سے اوجھل تکنیک پر تربیت کر رہی ہے اور اگر ہم نے پاکستان کی ہتھیار فروخت کرنے کی درخواست ٹھکرادی تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں