99

انڈیا کا مکار چہرہ بے نقاب، پنجاب اور مقبوضہ کشمیر سمیت افغانستان میں‌ حملہ کروا کر الزام پاکستان پر لگانے کی بھارتی سازش عیاں ہوگئی،رپورٹ میں حیرت انگیز انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے انڈیا کی طرف امن کے قیام اور دوستی کیلئے ہاتھ بڑھایا لیکن انڈیا کواپنی عزت راس نہ آئی۔ انڈیا نے سفارتی ، جھنگی اور سمندری محاذ پر پاکستان سے بھرپور شکست کھانے کے بعد عالمی لیول پر اپنی تذلیل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جسکے لئے انڈیا کیجانب سے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔ انڈیا پاکستان کے خلاف سازشیں کر کے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونا اور پاکستان کو بدنام کرنا چاہتاہے مگر اس میں سرخرو کبھی نہیں‌ہوگا۔ قومی اخبار میں شائع میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیر کے شہر پلوامہ حملے کی طرح مقبوضہ کشمیر کے اندر اور

انڈیا کے سرحدی علاقے میں ایک اور بڑا واقعہ کروا کر الزام پاکستان پر لگانے کی انڈین سازش بے نقاب ہوگئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر، ہندوستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر بھی کسی غیر ملکی سفارتخانے اور غیر ملکی اعلیٰ شخصیت کو بھی نشانہ بنا کر اسکا الزام پاکستان پر لگانے کی بھارت ،اسرائیل اور افغانستان کی تینوں خفیہ ایجنسیوں نے نہ صرف منصوبہ بند ی کر لی گئی بلکہ اس پر کام بھی شروع کرچکے ہیں کہ کسی طریقے سے کوئی ایسا بڑا اور دلاآفروز واقعہ کر کے پاکستان پر الزام لگایا جائے تاکہ اسی الزام کے تحت پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی کوشش کی جائیں اور اپنے اپکو دنیا کے سامنے سچا ثابت کر سکیں،۔میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ذرائع کے مطابق یہ خوفناک سازش میں ناصرف انڈین وزیراعظ مودی شامل ہے بلکہ این ڈی ایس،را اور موساد ایجنسی کے اہم افسران بھی اسمیں شامل ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت جس وقت یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستانی پنجاب کے اندر کیا جائے گا تو وہاں پر ایسے ثبوت چھوڑیں جائینگے جن سے بعد میں یہ ثابت کر سکیں کہ یہ لوگ پاکستان سے آئے تھے ، اس ضمن میں کچھ جعلی شناختی کارڈ، تصاویر اور کاغذات بھی تیا ر کئے گئے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے اندر سکھ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ سکھ کمیونٹی پاکستان کے خلاف ہو جائے اور مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی نچلی ذات کے ہندوؤں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ کیونکہ پاک انڈیا کشیدگی میں سکھ کمیونٹی نے انڈیا کی بجائے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا جس پرانڈیا بلبلا اور تلملا اْٹھا تھا۔ذرائع کے مطابق اس ضمن میں دہلی اور افغانستا کے شہر قندھار میں رواں ماہ 2 اجلاس بھی ہوچکے ہیں، ایک اجلاس 28 فروری کو بھی قندھار میں ہوا جس میں را، موساد، این ڈی ایس اور کالعدم تنظیم کے اہم رہنما موجود تھے اس اجلاس میں حملوں کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر دہشت گردی ،اہم شخصیات کا اغواء اور غیر ملکیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی بھی منصوبہ بندی بنائی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی طے پالیا گیا کہ بالخصوص بلوچستان کے اندر حالات کو خراب کئے جائیں جسکے لیے سی پیک پر جاری منصوبوں پر حملوں اور وہاں پر کام کرنے والے چینیوں کی ٹارگٹ کلنگ اور اغوا ، پاکستان کے بارڈر پر چیک پوسٹوں پر حملے اور پاکستان کے اندر خود کش حملے کئے جائیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں جو اجلاس ہوا اس میں را اور موساد کے 6،6 اہم اہلکاروں کے علاوہ ٹی ٹی پی کے مولوی محمد نبی،این ڈی ایس کے عیسیٰ خان،پیر ضیاء الدین،فتح عثمان ،جاوید سواتی،ملا اسماعیل،مولانا رحمت اور انڈین قونصلیٹ قندھار کے تین ذمہ دار بھی موجود تھے۔ بھارت سے را اور موساد کے اہم افراد آئے تھے ، وہ سفید رنگ کے ہیلی کاپٹر میں آئے تھے۔ ذرائع کے مطابق بھارت اپنی اتحادی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ہر صورت بدلہ لینے کے لیے 2 اطراف سے سازش کر رہا ہے ، ایک افغانستان اور طالبان کو استعمال کر کے ، دوسرا اپنے ہی افراد پر اپنے ہی لوگوں کے ذریعے خود کش حملے کروا کر ان کی قربانیاں دے کر پاکستان پر الزام لگا کر عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر کے بدلہ لیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے اہم ادارے اس سازش سے آگاہ ہوچکے ہیں۔ اور سرحدوں پر پاک فوج نہ صرف الرٹ ہے بلکہ ساتھ میں دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل تیاری کی جاچکی ہے تاکہ دشمن کے دانٹ کھٹے کر سکیں اور انہیں مزید زلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں