32

ایف اے ٹی ایف میں‌ پاکستان کی ہندوستان کی مخالفت پروزیر خزانہ اسد عمر نے وجہ بتا دی، انڈیا کو باہر نکالنے کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سینئر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاہے کا کہنا لکہ کایف اے ٹی ایف ایک انٹرنیشنل ادارہ ہے اسمیں پاکستان کی کوئی پسند نہیں ہوسکتی، پاکستان ہندوستان کی ایف اے ٹی ایف میں شرکت کا مخالف ہے، ایف اے ٹی ایف کو پاکستان پر سب سے بڑا اعتراض کالعدم تنظیموں کو ہائی رسک قرار نہ دینا تھا،یہ تقاضہ ہم نے گزشتہ ہفتے کے روز پورا کردیا ہے ،طرز حکمرانی کے فقدان کے باعث اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی، پاکستان میں کارپوریٹ قوانین میں بہتری لائی جارہی ہے، کارپوریٹ شعبے میں جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔سموارکے دن پاکستان کارپوریٹ گورننس اسسمنٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کی بہتری کیلئے نیا قانون درست سمت میں قدم ہے،ایس ای سی پی اس پر عملدرآمد کروائے۔ انہوںنے کہاکہ سرکاری کمپنیوں کی کارکردگی بہتری بنانے کی ضرورت ہے،بیوروکریسی میں ماہرین کی کمپنی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بیوروکریسی کی اکثریت جنرل نالج رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری کمپنیوں کو چلانے کیلئے ماہرین کی ضرورت ہے،حکومت اسی پر کام کر رہی ہے،ہماری کچھ خواہشات معصومانہ ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چار سال قومی اسمبلی کی صنعت و پیداوار قائمہ کمیٹی کا چیئرمین رہا ،چار سالوں میں کسی ایک سرکاری کمپنی کے بجٹ یا اخراجات بروقت حاصل نہ کر سکا۔ انہوںنے کہاکہ سرکاری کمپنیوں میں کوئی گورننس نہیں،کوئی مالیاتی کنٹرول نہیں،اس لیے حکومت نے ان سرکاری کمپنیوں کو کنٹرول کیلئے ہولڈنگ کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسد عمر نے کہاکہ یہ کمپنی ان تمام کمپنیوں میں افرادی قوت کے مسائل کو حل کریگی،کابینہ نے اس تبدیلی کی اجازت دے دی۔ انہوںنے کہاکہ عالمی بینک کے پروکیورمنٹ قوانین پیپرا کے پروکیورمنٹ قوانین سے سخت ہیں ،ہمیں زیادہ کمپنیوں کو سٹاک مارکیٹ پر لانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ریگولیٹری اداروں میں افرادی قوت بہترین ہے ان کو فیصلے اور ان پر عملدرآمد کروانا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ کمپنیوں کیلئے قوانین پر عملدرآمد کو کم کیا جائے تک وہ آسانی سے کام کر سکیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان بھارت کی ایف اے ٹی ایف میں شرکت کا مخالف ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات دئیے۔ اسد عمر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کو پاکستان پر سب سے بڑا اعتراض کالعدم تنظیموں کو ہائی رسک قرار نہ دینا تھا۔ اسد عمر نے کہاکہ یہ تقاضہ ہم نے گزشتہ ہفتے کے روز پورا کردیا۔ اسد عمر نے کہاکہ ہم نے کالعدم تنظیوں کو پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیدیا ہے۔ اسد عمر نے کہاکہ اب امکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ ستمبر میں پاکستان کو کلیئر قرار دیدیا جائے۔ اسد عمر نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اس میں پاکستان کی کوئی پسند نہیں ہوسکتی ۔اسد عمر نے کہا کہ فیصلہ ایف اے ٹی ایف نے کرنا ہے ۔اسد عمر نے کہاکہ ہمارے تحفظات جائز ہیں بھارت نے لابنگ کی ہے ۔اسد عمر نے کہاکہ بھارت مختلف کمپنیوں کے ذریعے بھی لابنگ کررہا ہے ۔اسد عمر نے کہاکہ بھارت کہتا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر بلیک لسٹ کرو ۔اسد عمر نے کہا کہ ہمارے پاس ایک ہفتہ پہلے کالز آنا شروع ہوگئی تھیں ۔اسد عمر نے کہاکہ فیٹف کی ایک ہی رپورٹ ہوتی ہے ۔اسد عمر نے کہاکہ ہر ملک کی اپنی اپنی رپورٹ نہیں ہوتی ۔اسد عمر نے کہاکہ بھارت نے پاکستان کیخلاف الگ رپورٹ دی ہے ۔اسد عمر نے کہاکہ بھارت میں پاکستان کیخلاف سیاسی تقریریں ہورہی ہیں اسلئے پاکستان نے بھارت کو ایف اے ٹی ایف گروہ سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کا مطالبہ جائز اور درست ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں