12

اسمبلی ارکان کی تنخواہیں‌بڑھانے کے فیصلے پر سینئر اینکر پرسن جاوید چوہدری کا تجزیہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) آج بروز بدھ پنجاب اسمبلی میں فسٹ ٹائم ایک ایسا بل پیش کیا گیا جس پر اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے کسی نے زرہ بھی اعتراض نہیں کیا اور یہ بل پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل‘ سپیکر نے یہ بل (مکمل) اتفاق رائے کے بعد قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا‘ یہ وہاں سے ہو کر واپس آئے گا اور اسکے بعد ممبر صوبائی اسمبلیوں کی تنخواہ تراسی ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ‘ ڈیلی الاؤنٹس 1 ہزار سے 4 ہزار‘ ہاؤس رینٹ 29 ہزار سے پچاس ہزار‘ یوٹیلٹی الاؤنس 6 ہزار
سے 20 ہزار اور مہمان نوازی کا الاؤنس 10 ہزار سے 20 ہزار ہو جائے گا‘ جاوید چوہدری کا کہناتھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں آج کے حالات میں 83 ہزار روپے کم ہیں‘ انمیں اضافہ ہونا چاہیےتھا لیکن سوال یہ ہے کیا ملک کا کوئی عام اور غریب شخص ایم پی اے بن سکتا ہے جسکا جواب نہیں ہوگا‘ یہ لوگ ٹھیک ٹھاک امیر ہوتے ہیں چنانچہ تنخواہ انکا مسئلہ نہیں ہوتا، وہ اسکے بغیر بھی (گزارہ) کر سکتے ہیں لیکن آپ پارلیمانی نظام کی خوبصورتی ملاحظہ کیجئے اسمبلی میں اگر امیر بلکہ امیر ترین ایم پی ایز کی تنخواہ کا ایشو آ جائے تو وہ حکومت اور اپوزیشن جو آج تک عوام کے کسی ایشو پر اکٹھی نہیں ہو ئی (اس) میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہوتا‘ یہ کیا ہے! آپ اپنی تنخواہوں میں بے شک دس گناہ اضافہ کر لیں ۔۔لیکن کم از کم عوام کے کسی ایک ایشو پر بھی ۔۔اسی طرح اکٹھے ہو جائیں‘ آپ کبھی مزدور کی تنخواہ میں اضافے پر بھی اکٹھے ہو جائیں‘ آپ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ تعلیم‘ صحت اور فضائی آلودگی کے ایشوز پر بھی اتنا ہی اتفاق رائے پیدا کر لیں لیکن آپ عوام کے ایشوز پر تقسیم ہیں اور اپنے ایشو پر اکٹھے ہیں‘ کیا یہ زیادتی‘ کیا یہ ظلم نہیں‘ آپ کم از کم ایک بار سوچئے گا ضرور۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں ،بلاول بھٹو کی میاں نواز شریف کی عیادت ایک ٹھیک ٹھاک سیاسی واقعہ بن چکا ہے‘ یہ ملاقات حکومت کیلئے اتنی اہم کیوں ہے؟ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ ن لیگ اپنے قائد پر خاموش ۔۔لیکن پیپلز پارٹی بول رہی ہے ، پالیسی کا یہ فرق کیوں ہے؟ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں