173

نیوزی لینڈ میں‌مسجد پر حملے کے پیچھے کون تھا؟ وزیراعظم نے سب کچھ واضح کردیا، پوری دنیا مشکل آسان ہوگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈسیک) پاکستانی وزیراعظم عمران خان نےنیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے پر صدمے کی حالت میں ہوں۔حملے نے ہمارے موقف کو ثابت کر دیا کہ دہشت گردوں کا
کوئی مذہب نہیں ہوتا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ متاثرہ خاندان کے لیے دعا گو ہیں۔ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ9/11کے بعد مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔اسلام اور 1 ارب 30 کروڑ مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ایسا کرنے کا مقصد مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو مسخ کرنا تھا۔اس سے قبل وزیر اطلاعات نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔سماجی کی رابطوں کی ویب سائٹ پر نیوزی لینڈ میں مساجد پر فائرنگ کے واقعے پر دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئےوفاقی وزیر اطلاات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستانی عوام کی دعائیں نیوزی لینڈ کے عوام کیساتھ ہیں۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا شکرہےبنگلادیش کی کرکٹ ٹیم حملے میں بچ گئی، پاکستان نے نے کئی سال پہلے ایسی صورتحال کا سامنا کیا تھا، پاکستان اس درد اورتکلیف کو محسوس کرسکتا ہے۔جبکہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ المناک واقعے کے بعد تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سوشل میڈیا پراپنے بیان میں یہ کہا کہ نیوزی لینڈ میں مسجدوں میں فائرنگ کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اس المناک واقعے کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن نیوزی لینڈ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور دہشت گردی کے واقعات سے متعلق تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔یاد رہے کہ آج نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النور اور لین وڈ مسجد میں دہشتگردوں نے نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اوراب تک40سے زائد افراد کی شہادت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں