15

ڈیم فنڈ سے اچانک کروڑوں روپے غائب ہوگئے مگر کیسے؟ انتہائی شرمناک اور افسوسناک خبرسامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک ) معروف سینئر صحافی و سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے جو بات کہی تھی وہ آج وزن میں آگئی ہے ۔ فنڈ ریزنگ میں پاکستان سے کچھ لوگ کیش ، چیک جبکہ کچھ بینک ڈرافٹ دیئے ہیں۔ تاہم جمع ہونیوالی رقم میں تقریباًدس کروڑ روپے کا فرق نکل آیا ہے جو کہ رقم کا 15فیصد بنتا ہے ۔نجم سیٹھی نے مطالبہ کیا ہے کہ گورنر سندھ سے پوچھا جائے کہ جمع شدہ رقم سے باقی پیسے کدھر گئے ، ہو سکتا ہے کہ گورنر سندھ کا جواب یہ ہو کہ یہ پیسہ ہماری تقریب پر خرچ ہو ا ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ پیسہ گورنر ہائوس کی تقریب کیلئے نہیں بلکہ ڈیم فنڈز کیلئے دیا گیا تھا اس کا جواب دینا پڑ ے گا ۔ معروف صحافی نے مزید کہا ہے کہ اگر وزیراعظم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے ڈیم فنڈ میں اتنی رقم جمع کر لی ہے تو بتایا جائے کہ 10کروڑ روپے ادھر سے ادھر کیسے ہوئے ، یہ معمولی رقم نہیں ۔ فنڈریزنگ کیلئے دنیا بھر سے لوگوں نے رقم جمع کروائی ہے ، بتایا جائے کہ امریکہ سے ہونیوالی فنڈ ریزنگ کہاں ہے ۔ فیصل واوڈا کی بیان میں آج سچائی نظر آتی ہے کہ اگر پیسہ چیک کی صورت میں دیا گیا ہوتا تو ایک روپیہ بھی ادھر سے ادھر نہ ہوتا ، اب پتہ نہیں دس کروڑ روپے کا گھپلا کہاں کیا گیا ہے ۔ نجم سیٹھی نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی پوری چھان بین کریں اور انکوائری کا فوری طور پر حکم جاری کریں نہیں تو یہ داغ وزیراعظم پر لگ جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنما و وزیر اطلاعات سندھ حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گورنر ہائوس سندھ میں 2018ستمبر میں ہونیوالی فنڈ ریزنگ سے 10کروڑ روپے غائب ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق جمع ہونیوالی رقم 76کروڑ روپے تھی جبکہ چیف جسٹس کو دیا جانے والا چیک 66کروڑ روپے کا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں