82

خدیجہ صدیقی کیس : ملزم شاہ حسین عدالت سے گرفتار، کوٹ لکھپت جیل منتقل کئے جائےگا

سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے خدیجہ صدیقی پر حملہ کرنے والے ملزم شاہ حسین کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا جبکہ ملزم کو سنائی گئی 5 سال کی سزا بحال کر دی گئی۔

خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ مئی 2016 میں پیش آیا تھا۔ ڈیوس روڈ کے علاقے میں اس کے کلاس فیلو شاہ حسین نے شادی کی پیشکش مسترد ہونے پر چاقو کے وار کرکے خدیجہ کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ حملے کے وقت خدیجہ کی چھوٹی بہن اس کے ساتھ تھی۔

بدھ 23 جنوری کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خدیجہ نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے اس مقام پر پہنچایا ہے۔ اس فیصلے نے یہ بات ثابت کردی کہ اگر آپ کے پاس طاقت ہے اور اس کا غلط استعمال کیا ہے تو پکڑ ہوگی، آج قانون کی بالادستی کی جیت ہوئی ہے۔

خدیجہ نے مزید کہا کہ یہ ہر عورت کی فتح ہے، آواز اٹھانے سے حق، سچ کی جیت ہوئی ہے، میرے خلاف نااںصافی نہ ہونے میں میڈیا کا اہم کردار ہے، وکلاء کو چاہیئے کہ حق اور سچ کیلئے کھڑے ہوں، اگر جھوٹ کیلئے کھڑے ہوئے تو کیا نام رہ جائے گا۔

فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے سے ملزم شاہ حسین کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ہے، عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ملزم شاہ حسین، ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی کا بیٹا ہے جس کے خلاف اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، اس کیس میں مجسٹریٹ کورٹ نے شاہ حسین کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف ملزم نے سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

شاہ حسین بخاری کی درخواست پر سیشن کورٹ نے مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے دی گئی 7 سال کی سزا کم کر کے 5 سال کر دی تھی، بعدازاں ملزم شاہ حسین کو لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں