175

نقیب اللہ محسود سمیت 4 ساتھی بے گناہ قرار، مقدمات ختم کئے جائیں، عدالت

پولیس نے نقیب اللہ محسود اور 3 ساتھیوں کو بے گناہ قرار دے دیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے پولیس کی رپورٹ منظور کرلی۔

نسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ سمیت 4 افراد کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے درج پانچ مقدمات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

نقیب اللہ قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ سمیت چار افراد کا قتل ماوراۓ عدالت قرار دیا اور نقیب اللہ سمیت دیگر پر درج پانچ مقدمات ختم کرنے کی رپورٹ بھی منظور کرلی۔

تفتیشی ٹیم نےقرار دیا تھا کہ یہ اسلحہ پولیس نے خود رکھا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہو یہ اسلحہ بارود نقیب اللہ اور دیگر کا تھا۔ راؤ انوار اور دیگر پولیس نے گرفتاری کے بعد نقیب اللہ محسود اور 3 ساتھیوں پر اسلحہ اور بارود کی برآمدگی ظاہر کی تھی۔

عدالت میں پیش پولیس رپورٹ کے مطابق نقیب اللہ، صابر، نذر جان اور اسحاق کو دہشت گرد قرار دے کر ویران مقام پر قتل کیا گیا، انکوائری کمیٹی اور تفتیشی افسر کو جائے وقوعہ کے معائنے پر پولٹری فارم میں گولیوں کے نشان ملے اور نہ ہی دستی بم پھٹنے کے آثار ملے۔

رپورٹ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ واقعات اور شواہد کی روشنی میں مقابلہ خود ساختہ، جھوٹا اور بے بنیاد تھا، نقیب اللہ اور چاروں افراد کو کمرے میں قتل کرنے کے بعد اسلحہ اور گولیاں رکھی گئی۔

تیرہ جنوری 2018 کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا، جس پر آج عدالت نے فیصلہ سنا دیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں