55

حج اخراجات میں اضافہ پر ارکان سینیٹ نے حاجیوں پر ڈراؤن حملہ قرار دے دیا

حج اخراجات میں اضافہ پر سینیٹ ارکان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

حج اخراجات میں اضافہ پر سینیٹ میں حکومت پر شدید تنقیداسلام آباد:
(1 فروری 2019) حکومت کو حج اخراجات میں اضافہ کرنے پر سینیٹ میں شدید تنقید ارکان سینیٹ نے حج اخراجات میں اضافہ کو حاجیوں پر ڈرون حملہ اور انہیں حج سے روکنے کئ کوشش قراردے دیا۔ حج اخراجات پر سبسڈی اور انہیں دو لاکھ اسی ہزار تک رکھنے کا بھی مطالبہ کر دیا۔ حکومت نے حج اخراجات میں کمی پر غور کی یقین دہانی کرادی۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے حج اخراجات میں اضافے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی پہلی حج پالیسی پریشان اور مایوس کن ہے۔ کابِینہ کی جانب سے حج پالیسی پر سبسڈی نہیں دی گئی۔ رواں برس حج اخراجات میں ایک لاکھ چھہتر ہزار روپے اضافہ کیا گیا جس سے قربانی کے اخراجات ملا کر حاجیوں کو مجموعی طور پر چار لاکھ چھپن ہزار روپے حج اخراجات اٹھانا پڑیں گے۔سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے پینتالیس ہزار روپے کی سبسڈی کی درخواست مسترد کردی گئی۔ گزشتہ حکومت کے دور میں حج اخراجات دولاکھ اسی ہزار روپے تھے جن میں ساٹھ فیصد اضافہ کے ساتھ مدینہ کی ریاست کے قیام کی دعویدار حکومت شہریوں کو مکہ اور مدینہ جانے سے روک رہے ہیں۔ انہوں نے حج اخراجات کو دو لاکھ اسی ہزار روپے تک ہی محدود رکھنے کا مطالبہ کیا۔وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے حج اخراجات میں اضافہ پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا حج کے 70 فیصد اخراجات سعودی عرب میں پہلے ادا کیئے جاتے ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں۔ سعودی عرب نے سفر،رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے انتخابات کے سال میں 2017 کے حج اخراجات کو برقرار رکھا تھا۔ اب حج اخراجات میں اضافہ کو یہ رنگ دینا درست نہیں کہ حاجیوں کو حج سے روکا جارہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ حج سے پہلے حاجیوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیرخزانہ کو ہدایت کی کہ وہ حاجیوں کو سبسڈی دیں تو اچھی بات ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں