22

آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ کا تبادلہ کیوں ہوا؟ صوبائی حکومت نے وضاحت کر دی، دو ٹوک بیان دے دیا

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک ) گزشتہ روز 9 فروری بروز ہفتہ کو ہونے والے تبادلوں پر خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صوبے میں ہونے والے تبادلے اور تقرریاں معمول کی کارروائی ہے اور وزیراعلیٰ محمود خان کو اس کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی اچھی ٹیم بنائے ، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے تبادلے بھی معمول کی کارروائی کا حصہ ہیں انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد خیبر پختونخواہ کی اہمیت بڑھ گئی، جس سے مشکلات اور چیلنجز میں بھی اضافہ ہوگیا، ان سے نمٹنے کیلئے بہترین اور انرجیٹیک اور محنتی ٹیم کی ضرورت ہے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ
وزیراعلیٰ محمود خان تمام محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں اور وزراء مشیروں کیلئے ٹارگٹ اور تول سیٹ کئے جا رہے ہیں آئندہ وزراء اور مشیروں کی کارکردگی کا بھی ماہانہ جائزہ لیا جائیگا وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ وزراء کی دفاتر میں موجودگی کو بھی مانیٹر کرینگے کیونکہ وزیراعظم نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ وزراء اور مشیر ہفتے میں چار دن ضرورت اپنے دفاتر میں موجود رہیں باقی تین دن حلقوں میں اور دیگر اضلاع کے دورے کریں وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے تمام وزراء کو ضم شدہ اضلاع میں دورے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر ہفتہ میں وزراء کسی نہ کسی ضلع میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں وزیراعلیٰ کے سابقہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی صوبے کیلئے خدمات کو سراہا ہے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کو پالیسیوں سے اختلافات کی وجہ سے ہٹانے اک تاثر سراسر غلط ہے ان دونوں کے تبادلے معمول کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بیورو کریسی میں مزید تبادلے بھی ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں