126

انڈین پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری، کیا بھارتی پائلٹ کو رہا کرنا چاہئے؟ پڑھیئے قانونی ماہرین کی رائے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستا ن نے گزشتہ روز بروز بدھ کو بھارت کے 2 جھنگی جہاز مار گرائے اور 1پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا ، بیرون ملک میں‌ہونے والی جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدیوں کو وسیع تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ کنونشن میں ان قیدیوں کو حاصل حقوق کی وضاحت موجود ہے جس میں برتائو اور بالآخر رہائی کا عمل شامل ہے ۔ بین الاقوامی انسانی قانون (آئی ایچ ایل ) بھی مسلح تنازع میں پکڑے جانےوالوں کو تحفظ دیتاہے ۔ جنگی قیدیوں کا درجہ صرف بین الاقوامی مسلح تصادم پر لاگو ہوتا ہے ۔ جنگی قیدیوں کو جنگ میں ملوث ہونے کے باوجود

کوئی سزا نہیں دی جاسکتی ۔ انہیں جنگ یا مسلح تنازع کے خاتمے پر رہا کرنا لازمی ہوتا ہے ۔ماہرین کے مطابق ان سے انسانیت کے ناطے حسن سلوک کرنا، بہتر رہائش،بہتر خوراک اور اچھا لباس اور طبی امداد فراہم کرنا بھی لازم ہوتا ہے ۔ بین الاقوامی اور جنگی امور کے ماہرین کی رائے میں پاکستان گرفتار بھارتی پائلٹ کواس وقت رہا نہ کرے جب تک تنازع حل نہیں ہوجاتا۔ تاہم قانونی، سفارتی اور فوجی ماہرین جنیوا کنونشن کے بھارتی فضائیہ کے پاکستان میں گرفتار پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن پر لاگو ہونے پر منقسم ہیں۔ تاہم اس بات پر متفق ہیں کہ مارگرائے جانے والے طیارے کےپائلٹ کو دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل تک رہا نہیں کیا جانا چا ہئے۔بعض ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی ہوا باز جنگی قیدی ہے اس پر تیسرا جنیوا کنونشن لاگو ہوتا اور وہ اس کے مطابق سہولتوں اور سلوک کا مستحق ہے جبکہ دیگر کی رائے میں اعلان جنگ نہیں ہوا لہٰذا بھارتی ہوا باز کو جنگی قیدی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے سابق سفیر اسلم رضوی کہتے ہیں کہ جنیوا کنونشن صرف اعلانیہ جنگ کی صورت میں لاگو ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں