57

چینی باشندوں کا پاکستانی خواتین سے شادی کے بعد انکے اعضاء نکالنے کا حیرت انگیز انکشاف

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں ایک اہم انکشاف ہوا ہے کہ چینی شہری پاکستانی خواتین سے شادی کے بعد انکے جسم کے اعضا نکال لیتے ہیں۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ریاض فتیانہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ کمیٹی نے قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافے اور خواتین پر تشدد سے متعلق سفارشات کی تیاری کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔رکن قومی اسمبلی حسین طارق کنوینر ہوں گے۔ قائمہ کمیٹی نے صوبوں اور وفاق سے خواتین پر تشدد کے واقعات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ ممبر کمیٹی شنیلا رتھ نے مذہب کی زبردستی تبدیلی کیخلاف قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں خواتین پر تشدد کے خلاف بنائے گئے قوانین پرعملدرآمد نہیں ہو رہا، تشدد کیساتھ مذہب کی زبردستی تبدیلی بھی بڑھ رہی ہے۔شنیلا رتھ نے انکشاف کیا کہ پنجاب میں خواتین چینی شہریوں سے شادیاں کر رہی ہیں، چینی شہری غریب بچیوں کو پیسے دیکر شادیاں کر رہے ہیں اور شادی کے بعد ان کے جسم کے اعضا نکال لیتے ہیں۔ ممبر کمیٹی لعل چند نے کہا کہ چینی شہری جعلی طور پر مسلمان بن کر بچیوں سے شادیاں کر رہے ہیں جب کہ ہندو بچیوں کے مسلمان ہوجانے کے جعلی سرٹیفکیٹ بھی بنائے جاتے ہیں۔اجلاس میں ملتان اور چترال میں فوکر جہازوں کے حادثات پر معاوضوں کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔ پی آئی اے کی جانب سے ائیر وائس مارشل نور عباس نے کمیٹی کو بتایا کہ حادثے کی صورت میں عالمی فلائٹ میں مرنے والوں کو 50 لاکھ روپے فی کس اور سامان کا ایک ہزار روپے فی کلو دیا جاتا ہے۔ ملتان حادثے کے وقت اندروں ملک مرنے والوں کو 40 لاکھ رروپے ملنے کا ملکی قانون تھا ۔ملتان حادثے میں دو جج بھی جاں بحق ہوئے تھے۔اس حادثے میں مرنے والوں کو 40 لاکھ روپے فی کس دیا گیا جبکہ چترال حادثے میں ہلاک شدگان کے ورثہ کو 50 لاکھ فی کس دیئے گئے۔کمیٹی نے پی آئی اے کے حادثات میں متاثرہ افراد کو معاوضہ جات کی ادائیگی کا معاملہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری قانون ملائیکہ بخاری نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ گھریلو تشدد کے واقعات میں پولیس اور پراسیکیوشن کا رویہ مناسب نہیں ہے۔کمیٹی کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ میں تمام صوبائی حکومتوں اور صوبائی وزارت داخلہ سے خواتین پر تشدد، تیزاب گردی کے واقعات اور ان پر سزا سے متعلق معلومات فراہم کریں۔ خواتین پر تشدد کے حوالے سے قوانین کو مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔وزارت قانون نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے قانون سازی کے بعد متعلقہ محکمے کی مشاورت سے قواعد وضوابط وضع کئے جاتے ہیں تاہم قانون کے بعد اس پرعملدرآمد کو جانچنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تمام محکموں کو واضح ہدایات دیں کہ وہ قانون کے مطابق اپنے قواعد وضوابط وضع کریں جبکہ آئندہ قانون سازی میں بھی یہ شق شامل کی جائے کہ قانون سازی کے بعد مخصوص مدت میں قواعد وضوابط بنانا ضروری ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں