19

شہری نے گوگل اور فیس بک کیساتھ اپریل فول منا ڈالا، گوگل اور فیس بک کو 12 کروڑ ڈالر کا دھوکہ دے دیا، کیس؟

لیتھوینیا (مانیٹرنگ ڈیسک) کے ایک شہری نے مبینہ طورپرغیر قانونی یعنی جعلی کمپنی بنا کر امریکی ٹیکنالوجی امریکی کمپنی گوگل اور فیس بک سے12 کروڑ دس لاکھ ڈالر کا فراڈ کرڈالا ہے۔
عام طور پر یہ تصورکیا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی یا سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیوں کو مالی معاملات میں دھوکہ دینا ممکن نہیں بالکے ناممکن ہو تا ہے تاہم اس خیال کو لیتھوینیا کے 50 سالہ ایفالڈیس ریمانے غلط ثابت کر دیا۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایفالڈیس ریما نے گوگل اور فیس بک کو اپنا شکار بنا کر ان سے 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہڑپ کر لیئے۔
ملزم نے 2 برس 2013 سے 2015 کے دوران گوگل اور فیس بک کو لاکھو ں ڈالر سے محروم کر دیا۔ ملزم کی جعل سازی کا انکشاف معمولی غلطی کی بنیاد پر ہوا جس کے بعد فوری طور پر اس کے خلاف نیویارک کی عدالت میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ دائر کر کے اسے گرفتار کر لیاگیا۔
جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 30 برس قید تک کی سزا ہوسکتی ہے ایفالڈیس کو منی لانڈرنگ اور لوگوں کے اہم ڈیٹا چوری کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم نے گوگل سے 9 کروڑ 80 لاکھ جبکہ فیس بک سے2کروڑ 30 ملین ڈالر کی چوری کی۔ بلومبرگ کے مطابق ملزم نے ’کونٹا کمپیوٹرز‘ کے نام سے فرضی کمپنی کی بنیاد ڈال کر گوگل اور فیس بک سے متعدد معاہدے کئے۔
ملزم نے فیس بک اور گوگل سے منسلک تائیوان کی ایک کمپنی کو بھی نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ بھی جعلی معاہدے کئے۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے باقاعدہ ایک نیٹ ورک قائم کیا ہوا تھا تاہم دیگر ملزمان کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور تحقیقاتی ادارے ان کوتلاش کر رہے ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے جعلی کمپنی کے ذریعے گوگل اور فیس بک کو اس بات کا قائل کر لیا کہ وہ ان کے اکاﺅنٹ میں رقم منتقل کریں جس کے بعد گوگل اور فیس بک کی جانب سے خطیر رقم وقتا فوقتا جعل ساز کے اکاﺅنٹ میں منتقل کی جاتی رہی۔
ایفالڈیس ریما اور اسکے جعل ساز نیٹ ورک کی نشاندھی اس وقت ہوئی جب ا نکے اکاﺅنٹ میں رقم منتقلی کے بعد جب دھوکہ دہی کا نشانہ بننے والی کمپنی کے ایک اہلکار کو شک ہوا اور انہوں نے کمپنی کا مارکیٹ سروے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہاں سے جعل سازوں کی حقیقت گوگل اور فیس بک پر عیاں ہونا شروع ہو گئی۔ اس کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا گیا اورباقاعدہ نیویارک کی عدالت میں مقدمہ دائر کر کیا گیا۔ اس حوالے سے گوگل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملزم کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی رقم واپس اپنے اکاﺅنٹ میں منتقل کر لی ہے دوسری جانب فیس بک کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے بھی رقم واپس لے لی ہے۔تاکہ مزیز تفتیش جاری ہے کہ اس گروہ کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں