82

چوبیس ہزار ارب کے قرض لئے پیسے کہاں گئے؟ بلاول زرداری کوپارٹی چیئرمین بنادیا، جو پاکستانی سرزمین پر 1 کلومیٹر پیدل نہیں چلا، مراد سعید نے کھری کھری سنا دی

[وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید میں سابقہ کا دور کے حکمرانوں کا پوسٹ مارٹم کردیا]
وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے قومی اسمبلی میں اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق دور میں چوبیس ہزار ارب روپے کے قرضے لیے گئے
(سوال یہ ہے کہ یہ قرضے کہاں لگے )
تعلیم کے میدان میں اگر دیکھا جائے تو کم و بیش ڈھائی لاکھ بچہ سکولوں سے باہر ہے بنیادی تعلیم سے محروم ہے
صحت کے میدان میں اگر دیکھا جائے تو ہسپتالوں کی حالت خستہ حال ہے اور اور پاکستان وہ ملک ہے جس میں سب سے زیادہ سٹنڈرڈ گروتھ پائی جاتی ہے مطلب خوراک کی وجہ سے بچوں کی نشونما ہی صحیح طور پر نہیں ہوتی
اگر روزگار کی بات کی جائے تو یہ وہ ملک ہے جہاں پر 60 فیصد لوگ نوجوانوں پر محیط ہے جس کی فی کس آمدنی صرف اور صرف 15 ہزار روپے ہے
اگر میرٹ کی بات کی جائے تو پاکستان کے ہر سرکاری ادارے میں سلیکٹڈ اور سفارشی لوگ لگائے گئے
یہاں تک کہ ایک پارٹی کی چیئرمین شیپ بھی صرف اور صرف اس شخص کو دے دی گئی جو پاکستانی سر زمین پر ایک کلومیٹر بھی پیدل نہ چلا ہوں
اور صوبہ سندھ سب سے زیادہ اس صورتحال سے متاثر ہے
یہ معاملات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب حکمران میثاق جمہوریت کے نام پر ایک دوسرے کی چوری پر پردہ ڈالتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں